اپ وت ہر نے پر زور

تم دو ممالت ہے لگوں سام

نکر ام خومت

فتادڑی فو یی روصنم ۰

افثشاداتع -_۔

امام انت عفد دد بن وات الشاہ امام اححمرضا نان قادری برکاکی وٹ ٹ

مر ےم ۱ ۳ پر فیرش عاہد یٹ ا ددیی رضوکی(ایم رای میمت -

ڈاژالرضًااہیر -

۱ الەرث ثں صلی عَلَيْوْوَسَلَئا کل تاعکر59

ا ماپ ...رھ نک وت ما کی رضوبہکی دشن یل

افادات ٤‏ گی رت الشاءامام اد رضانجان بر مدکی لے عیب .. نان پردفسرح مابدی ٹقادری رق دی اوزاز : وی شور صخحات 40 ٠‏ اشامت . : ماداانٰ ۱۴۳۲م ار2021, ای بن و رورض ام انز

و ۱ کچ رے_ ْ

کاپ

وف زم رکز یس رڈ ملرما ای

می ہش روڈ ءدر مار مارکیٹ لا ہور_ 042-37225605 / 0321-4477511

ام اچ رضا رح اتال عل یش صلئی صلی لد تھالی علی دآلہ بح و ارک پلم - کے د ونیم پک تھے؛جنہوں نے نیصرف پیکی دم ۱ وی عمق کا پغا دا للگفراوراخیاء ۱ داولیاءک یگمتاقی سے اعم ت کبیا ۔کذ رکے اندھر کو اما نکی رش سے منورکیا۔ ول انی التھالی علیہ د لہ بحبہد ارک وی مک پل بلی ام تکوسد ھے رات گا نکیا۔ وگ ال سیل مکی نا مو لک اط راہقی جا نک یبھی پروانن کی ۔ ال تعالیٰ ٠‏ اوہرسول ای اللتھالیٰ علیہ لہ ولحپہ و ہارک مل مکی شان می تو ن1م یدک کین والںکوامام اد رضانے اڈ تھا یک عطا سے اتی مکی تیزدھار ےگ ےک ےکردیا۔ اسلام کےوفاداروں کے لی شہد بھی ز با دشر سی تے۔منافقوں دبیرہہوں اسلام ْ کے منوں او رتا خوں کے لیذ ہرم کھ یوار تھے۔ اتال ن ےآ پکوکتا خوں ۰ یش من بنایا۔ ا زان الام کے لآ پکا روک نائکن تھا پ کے بر ان ددال وا یز یادہمنبوطتھے۔آ پکیک دی حاصل تھا ادورسو لکانق لآپ پرسارہ ان سر 11 اورو یو علوم کے سا تھسا تج بکوعلوم چر بارہ پھشیا ہہارت عا 007 فو ںکیآندجیوں کے ات ےآ پمقبوط لی ےکی عطر حبھفرے رے۔ ۱

رس/ رس بدا ہدنے وا گفپچٹول میس سے ایک نف اد ہاعیت تھا جآ رہ بھی پپوری دنیا شی فمسلمانوں کے ایما نکنشکا رک ےا ای جنر ے میں صصوب باب کے ۳ قادیان نائی مقام ے مرا غلام ات اد بای نے و کا لو یکیا۔ انییا ۓےک رام مہم

اذ ۃوالسلا مک یگمتاٹ کی ۔اسلا مکوکنزورکہ نے بس اتی ریذن دکی آگادکی۔ ساد ولوح لگ اس کےفر جب میں پچننتے کے اور بایان اپنے نمو سکنواتئے ر ے۔

لوگوں 2 ات ےا 22 نے مرزاغلام اتاد بای کے وی وت اورانیانےگرا مکی شان سک یگمتاخیو ار دن فبایا۔مرزا قادیای ے رزٹ دم احدرضا ک یھی ہوئ یکا یں اور ری جات ائول جا آخرشفاۓے مونین اود شا قادیانیت ہے۔ جال مزا تیت بر آنت یں۔ان کے زی یہوں برنک ۱ کچل نے کے لیر و نے پا کی رض شرریف اورمفوظیات ال حضرت سے چند موتو ںکومچ نک رای کلڑی میں پروی ےتا یگ تاد ایت کے جال ےظ اور اپنے ٰ اد کو انی

آخمیں ش؛مرکزیپنکش رضاٴ کےتامماراکین او جہان رضا سای وھ مررضا قاددکی رو صاح بکاشکرگز اہول جنہوں نے السا نےک ت7 ریپ نیت یر میرح سے حوصلہاف زان لی نم

ُ ان رسالےکوترحیب د ہے کے لے ملفوات اللی حضزت اور فا یا رضورشریف رضافائون مین لا ہد پاکستا نکی ان جلدول نے فان عاص٥‏ لکیا گیا ے۔ جلد اول (حص دوم)ءجلد ٦ء‏ جلد ۸ء جلد ااءجلد ا ءجلد ۱۵ءجلر * ۳ ءجلر ۳۳ جلد ۴۴ اورقو می رو ریف (انڈ یا )کی ان جلدوں ےاستفادۂ حا لکیایاے۔جلراءچلر ۵ ءچلد٦ء‏ چلر۹ءجلر ۱۱ءچلر ۱۳ لد ٦۱ءچلر‏ ٭ ۲ر ۴٢‏ ۱

از یل مک یرم س ایم کے بل سس یکبقول ف اے۔

جڑا ہی ٹ اور شر یم جمادگی الاخریی ۳٣٢۱م‏ 202176

لحمدللەرب العلبیں وسلام عل الیرسلوں ماان مد اب احل من رجالکم ولکن رسول الله و خاتم النبین وکان الله بکل شئی علما. امن یصل عليهھو و ملشکۃ صل عليه وع لد صحب و رك وسلمتسلما۔ امو ہے

جخور پِورهَائِو الگ یی دا ری نیش تال یلم این کا خاقم لن نشت ں۲ آخ رین انیاء وم رین بلاتاویلی و شی ون ضرور یات دن نے سے وا ںکا مج یا نل میس ادلی شک وشب ہکوھی راہ ر تقافر طتون ہے٢‏ ےر وَلكِن ول الله وا لق قا(لی ن آپا کم ولا ہداخیا کے خاتیں۔ت)' ٰ دحد یٹ تا لا نبی بعد ی 0ا(میرے بعروئی یاشاست )ےتا مامت مرجوررنے لغ فلا یج بج ےک توق یں سلی اولرتعالی علیہ دم بش قرام انریا میں٦‏ خری ہوئے تحضور کے ماتھ پا تضور کے بہدقیاح قیام تک کک یکونو تن یعوالی ہے نا :

خام ای نکی متو ات حریشیں [" ھی ںکھو لک رخودش رسول ادث ما؟ لک ات ی علیہ مکی متو انز

عدہشیں د یھ ےک : ا۔ یس ما نی ہیں جن کےا بعدکوئی غپائیں۔ میں سب اجیاءیشآخ ری ہوں۔ ‏ ٣‏ میں نام ایا کے بعدآیا۔ ۲۔- یں( ہم ای )کل ہیں۔

5 رآ ن گرم التزاب:۰

ك۳

کی انار تاب الاخمیاء؛ باب ماؤکرکن با اسر انل :تہ بج یکتب خا شک ابی ۹۱/۱ تا ن وی رضو ‏ جلر ‏ اھ ٣۳‏ رضافا نون +د: پاکتالن/ انڑ یا: رخ ۲٢‏ رل ٢۵‏

ھب یو کے بد یما

۷ قصرزوت بیس جوایک ان ٹک نی جج ےکا لک یگئی۔

ہے ٌُ لآ ذاانیاءہوں۔ ۸۔ میرے بحدکوکی نیائیں ‏

۹ رات ونہو تضفتع ہوگئی اب شکوکی رسول ہوگان نی-

نبوت ٹیل سے اب پگھوندد پا سواامیھیخواب کے۔ ٠‏ میرے بدکوکی نی ہوتاتوعرہوتا۔

ا خی نے ا یل ات از ھا تک زین مت ۱ : ۴۔ مم خا اشن ہوں می رے بعدکوگ یں اہ نمی ری مت کے بعادکوکی امت تا رعش سب سے بچھارکی ذ ربج ہانں وت لت

ناشن مز مال ا را تک رح اٹ ےہ بررے ہیں (0) ادا ہم اصلء

والسلا مکی توئیشیں, ؛() نی علیہ اصلؤ ۃ والسلا مکوگالیاں ٣(٠‏ ) ا نکی مال لیب طاہرہ پر

نیشن اور یکنا اک( ۴) یپودی کے جوا مرا یی اودا نکی مال پر ہیں ا نکا جوا ی٠ی‏ -

اور پکہ(۵) نو تل پکرئی یل قایس بنرعدم وت پر ال قائم ےہ( )مہ انا ۱ کیش رن نے ال نک انبیاء یٹ شلگنا ہے اوک رصا فکہہد بن اک( ) دہ ہیی ہو کت ء

زا یی علیہ اصلے ۃ والسلام سے صمراجۂ الگا اود بکہناکہدو مر یم سے مہ پچ کیا ٰ کرت تے اود کہ( یش ان باتو ںکوگردہ نہ جا ات وآرج ھی ےکم نہ ہوتا :تو ہ 7

رون جزرنے ج کو رآآن ید یات بیناتف مار ہا ہے را نکومسجر یم وکردہ ما تا ےہ

١("‏ )ۓآ پکوا گے نمیا ےالفل تا اود پک ہنا( ۱) ۱ین میم کے ذکرکویھوڑ اس

سے بر لام ات ہے؛اود یہنا )۱١(‏ کے چا را جیا اءگی چتگوگی نا 07

ا فاوی رضوں جلد ۵ا پفیہ ۴ اے ؛رضافاؤنڑمٗن:۱ ہراکان انڈیا ٣‏ ۲۳ای ۱۵۲

۱ جونے او ا(۴ صل می امو ملا مک پا ایبیل سادا زان یں اور کہ (۱۵) ای خون سے کنا یکی پندائش ہے۔ (۱۹) اپنے آ پ کون کہناء (ےا قیرف وت ال یآ ن ےکا اد اکرناء(۱)۱۸ نی ہنائی ہوئ یکنا بکوکلا حا یکنا اود پل(۱۹) آی/۔ وَمَبَیمرا يہ شزل با شی اش ةآحتں+ نا (ان سول

۱ یشارت سن تاہواجومیرے بت تخرف لا میں کےا نکانام ات ہے ۔ت )سے مل مرا نول اور ےک ہ(٢٤)‏ تج اتا ہے !دانسا بنقادیان وہائعق نلم ے اے قاد ان شل اورقن کے ساتح نز لکیا بت ). ۱"

خحبیث اد یالٰیکی ئن یکوئو ںکامجھوٹا بڑنا ۱ ۰" 727 پا جن می بہت پچ رون جفوں ےلین کے قابل دوواںتے ہیں

1 0 ۰و دو سو وو وہ و اٹھاکردیکھاتومادہ بایادت )بن پیداہدگی ءال کےاد کہا روٹی ک ےکی میمش ا بکی جو ہوگاددانیا ءکا چان ہدگا۔ بی بیو لے وم رکف کناٹ کان فا ےکی ا س ےکن ون سے مت گی <- ْ

دسرکی ہت بڑ کی پھارگ پینگوگ یآ مال جوردکی ای بیز اد بن احمر یکولک رک ربھ اک اٹ یی یی مر ےکا می دے دمے؟ اک نے صاف اہگارکرد ا اکس پر پیک دلائی چکہاں دی پل رکہا کوٹ یکن کہ زوا کتھاہم نے تیرا لگا ال ےگردیا ٤اورے‏ گال ںکا اع رود در جک ےڈا ینابر کےا ندرا کاشو ہرم جاے گا .راس مدکی بنلدی نے ای کی سک سلطا ند ال سے پکا کرد یاء وو سای ذکاح ترایز با ءضدد وش ٹر سے چچے اس سے ہو اور پل د یئے۔

گ الظم] آن الگ 0 القفب:1 ٦٦‏

ادہاوں کا ری امام امررضا علیرال رہ ِ غشن ئن ک ےکفر کنب عدشحار سے باہ ہی یکہا کک گے جانکیں اوراں کے ہوا خواہ ان باتقو لکونا لے ہیں٠‏ اور بخ کر میں کےت کا ہے می ں کی علی الصلؤ ج والسام نے اتال فر ما با نیعم کےا ٹھاۓ گے ا صرف دو مبدییا وش کی ایک ہیں پاتحد(_ ان گیا مارگ وی ہےء ا نکفروں: کے سا یئ ان ضیاح اکا وک ذیض بیج ےک ریسلی عل احصلا 2 والسلام زند وی ,ففش کرٹ مین اٹھائۓ گے فرفس یی ےکم بدری سی ایک ہیں اراس سے دو تیزےکف کیرٹ لئے لا قذ اس میں ےکی انتا میں نی ہوں بحم کے ہی ںگوکافر ا ںکا نل ہونا چا ےہ انا ءگیتوٹتیں, انذیا ءکی رز یں خزات سے اس ہزاءء نبو تک ادعا اور ردوسرے درجہ میں انیاء کے چانروالا یا +اسالی جرد ہ یت کیکف رکز یب کوکائی ہیں_ تا ۱ امام ات ضا رت الڈ متا ی علیفرماۓ یں: . ََ. (تار ای اوراس کے و نچھلوں کے ان تق اقوا ل ت7 از ایال کے رد اوا صد یگزشتہ یں بکشزت رسائل ومسال ملاےعرب دم ہویے ایرد ناک لیے ار ْ ذات می لک کرقع تنم مک پچ َال یل وت الْکَالہؤں تا ۱ ممرناکےب دک چخد قوا شس اد ال کے تق دی ہو کر ب کر حکز سد ایتقرادد یھت سن پک رزکوما وٹ وایتبول خدا ایت لوا یقن سب رن ہیں ہب سقق مار تا ٰ قرآ نکاہنام ساد ۷ اق

نا موی رضویش ری جلد امہ ۳۳۹ ءرضافا یش لا ہو پاکتاان/ ان یاء رخ ۷٣ض‏ ۲۹ ۴ دی رضو یش ریف جلر ۱۵ ۵۹۰ءرضفاذنڈ فی (اہور ا کتان/ئ ۲۳ ل۵۹ 2 ارآ ن الک ریم ء1 لگران:۱۹

مم پا 7اخ ٹک ' ت۳ ریت 278۳ ...س۹× ڈرو ۹ و شک الد کے نر و٣‏ باب تید ین عم رذ أآص٢۱١٣ح٠٥‏

ُ اچ

نت ما الاو وڑکا؟ لن بُفْبَلَ‌مِنۂ َمٰوَٰ الاجۃ کے نالفْي رق“ :- کے اوراسلام کے واکوگ یک بھی دوسرا دن چاے ورگ زقبول نم وگ اور و نس1 خرت

رز یا ںکارر ےگا

۱ اب تمام ججہالن کے ید ین صرف د ینعی ی سے

و کنا اک٠‏ الد وا حدقار نع ز سو )صا اش تما ی لے 7 پرھام مان ے نام تک کے واسلے اناراے_

تبرت لق تل الفرقاتَ عل عبیجیمکر ت یِلغلہزق ترزز 5 ئُل ینا الگا ارول اشوالیگر بیٹاھ --

ڑگ ہریت والا سے ذ نے اتا رات رآن اچ پ: نرہ پر چوسمارے ےہا نکوڈر و--0 فر ما ا ےل وگوا می تم س بک طرف اشکاول ہوں۔(ے) ا بکوپی جد یڑ یکین 1 ےگا ۱ ۱ ٰ اوران سے بد تکادرواز ہ ون ماد ہا با حال ےکس ابر الا اتک اب اجریرڑی۔

وَلٰكِنرسُوْل الله وَحَاتِمٌ الگہزن+وگائ لایخ کور نع2

ال اد کے رسول ہیں اورسبنڑیوں می لے اورارڈ رسب سب مگ جا اے ۔(دت ) ق رن مجید ہر طرف ےتفوطڑے ٰ

حا ہےکما نک یکا بکاایکترف ا نکۃ ریت کو یکم کی بل ہےے۔ نت ارآ ن رمآ ل ران: :۸۵ 2 اوئی رضوریشریف جلد "اج * ۵۸ ءرضافا نیشن :لا :ود: اکا ن/ انڈیاء ؾ١‏ بش ۱۴۷ تنا القرآن اگکریمء الف مان

۴ اق مآ ن اکر م۶۱۷۰اف:۱۵۸ ظ ااق رن لک ریم 2111:ا ب؛٠‏

اھانیاں 000۳ ۳ ٦ت.ث-:‏

21 ایی

وتوہ لن مکی ینا

۱ ان لکواہ کی ضرف راہن ندال کےا سے شااس کے جیے سے اتا را ہوا ہے وا نے وع ں را ےلات ۱

ڈارف امام ل اکر

انی ری کسی علا لکوجوقرام جتاۓ پا ای مرا مکوعلال جتاۓ ووحاا ل7 ا“ 5

تام طلا لآذ نہ ہوجا ےگا بل می کن وال لٹا کاف رہ جات ۓگا۔ ولا تِفولوا رتا َیف الہنّٹگو الَکَیْبِ هنَا عثل وَهٰدَا ً اڑا کل الو الَگزِتَ٠ ٣٦‏ سہ٣‏ ت٠‏ وَیْلَگُملا تَفْکرُوَاعَى الذ و زم فَيْتْحِتَکْبِعَذَاپ6

ٰ ارات رای ما ش ححوت ٹ جیا نگ تی یں یعطال ہاور یترام کلف مرو ات برپھوٹ با نر ھت ہیں ا کا چھاا ہہ وکا ۔ “ہیں رای ہواید پر تجھوٹ نہ با ندھ وک و ہیں عز سے ب لاک ککنزد ےا ٰ

ہے رڑرنہےٌےةٌ۔

غام می لافتال کی ایک ویر

ہرچزرسو لکی رسالت جا قٰے

ل

د مت ل انگل اشقالٰ عو شرف مات ہ!یں: :

ثؿ الا یعلم ان رسول الله الا اراا رسای زان 0

ك۲ ارآ ن کیم نصات ۲| ئ اھ آن اریم اخل:٦‏ ك۳ القرآن نالکرییم ہط :ا٦‏

تا نیاوی رضویشریف جل دم ایک ۸۱ء رضافار پڑےٗ ین 10۷ء۴۸9 مامتا ان یاء ١ا‏ یھ فا 27 گے ىر ٢‏ ع٦‏ ءاللت ریما ۱

۲ ۱ ى٠‏ س ۔ ٔ۔ 72ھ ا ُ ن ال مع اصخیر حر یٹ ۸۰۴۸ :ار التب ای مت ۳ مال ٢‏ ے٣۹‏ م

روا ریرش بعلین مر زط للہ تال عدہو یہ خاتھ ْ احفاظ ۔ کوک زا سے جو جانا رسزل ھا ہوندا کان او یں سے نے۔ یش ری سوہ .بر مہوں سے بپچناض رو ری ے ۱ سو ا لی تال علیہد ایدارک ولرفرہاتے ہیں: گرا ہیں سے دور پھاگو یں اپیے بے دو کر ہیں و یں بکاشہد دی ہیں و میں کے میس نال زی تا وی صرف جم عقی رق الا سے ْ ول الڈ شی اٹ توالی علیہ دیعب د ارک رف رماتے ہیں: . آدیی اپےگحوب کے دن پر ہوتا ےتو دہ پھا لک ری سے دوتیکرو۔ ڑا سے ۱ داد کی نے سومسن کے سا تر ری نشی ای عورسے رایت گی رت )تا ْ

فا عبرا امام مدرغامی لم )۱( ہرسلمان رف انم ن ےک الع زوئلل کے سب دوستوں مےبحبت کے او زاس کے سب شمنوں سے ععداوتدبکھے۔ می ہماراعین ایمان ہے ا

گا : اوک رضوریشریف مجلد ۱۵“ ہ۵۸۱ ءرضافاؤ نیشن اا ہود پاکتان/ ان یا ٣۴‏ ب۵۰

2 کی مسلم شریف, جاب ہی عن الردا یت خن ااضعپاء. فماوکی روب رای جلد ۱۱, من رتا فا نیشن لا ہور پاکستان/ انڈ ء۹ ضش۳۹٣۔‏ ۱

29 من اوداود کاب الا؛ دب باب کن لاھمرالن 0 8 ۳۴ء ضا فاؤنڈمش نا ہور پاکتاان/انڈ یاء مل

شا مامونى بت ای ریت لہ ال ر7 ۔_حضددوم

)۲( فی شر اش لخد و وق یہ وشن ران (۳٣(‏ الد زوٗل سب خبنا کک نی 7ء0 پا کی اھ ںکھوئنے اور دوستئشن پھایۓ 7 و سس کے دوس ت دنن ہج رسول ال لی تع ٰ ال ےلم کے دوست ووینء انسوں افو ہزار انس یک ہآ دی این دوست دش نک ان ءاپیے نع کنا ھا ان یرت عون می ون ا نے یصو یی شال یلم کے نون ان کے ب ہیں ہیں گالیاںگو/ شح مر نے والوں اوران شبؤں کے ہم جرہبویں جم پیالیں ےک خف وا رک ےکر خی ام تنآ ےکی کیا شزنہہوگا مکی سول اڈ لی اتی علیہ ہل کوٹ دکھانا کی س مکیا .ان کےآ گے شفاععت کے لیے بات پھیلانانٹیں ۔مسلمائو! اد ے روہ رسول اذ صلی نالعا یلم سے ھا کرو الاظز شک وی ے6 ین !ورڈ تال لم( 2 (م) ۴ لوگ اپنی ججاات حےگما نکرتے ہی ںک ہم آتے ول سےمسلمان ہیں ہم پر نکا کات ہوا عا اتک رسول اص صلی لت لی علیہ دالہْ٤حبہ‏ و ارک ومھفر ماتے ہیں: من سمع بال‌جال فلیداء منه فواللہ ان الرجل لیا تيه وھو بحسب انه مؤمن فیتبعه ما یبعٹ به من الشوھات. رواہابوداؤد عن عمر ان ہن حصین رضی الله تعال عنه وعن الصحابةجیعا۔- جودتجا لکی تج رن اس پرواجب ہ ےہاک سے دود ھا گ ےک مد اک م1 فیا ال ئ پا کی جا گا اود خیاللکر اک می لتومسلمان ہوں لٹ بے ھے اس ےک :

إنتصان کاو پاںل اس کے ےعوکوں یں پک رس کا بجر جات ےگا (اے اود او

لے ےگھرائن رن

ا ملفونات ایی مفضرت علیہ ار ۔حص اڑل جا فماوکی رضو بشریفک مجر ۲ا ٹہ ۰۳ ۴ء رضافاؤ نڑ مین لا ہور ماکمتتا ن/ ان ا ٠ئاا ۱٢۳١‏ ۴

' ١ ےم ہہ ۰ سے‎ ۱ ٠ ۲٤٣ ٢ جا بٹ تر ون الد جال ؛آ غاب نوا لحم بریی: لا ہور‎ ١ من ای داد ؛کماب ال ماقم‎ 5 ۲

ا ےھممموتی

کضضلمو پر یکرت کا جال ایک سی تتجال اضر تکویے ہوجوآنے ولا ہے حا شا تھا مگمراہوں کے و ا مطادکی سب دتجال ہیں ا ورس ےزور ہا گن چ اف اوس یل : بی انربیشہ بقایا ہے۔رسول الد کی اتکی حا ےلم فر مات ین . یکو ں٤‏ !خر الزمآن دٹالون کدابون یأتونکُم من الاحادیٹ مال تسہعوا انتج ولا آباء کور قایاکمر وایافم لایضلونکم ولا یفعدونکے۔۔ لا مسلم عن ا ی ھریرۃرضی الله تعا ی عنہ۔ آخرڑ مان میس تا لک اب لوگ بنوں ک ےک :با 7 رما الا می گے ہے یم نے ےی نتہارے پاپ دادانے و ان سے وررہواو رای اپنے ے دور رھ ہیں کرو ری یں وش ال دی ام ےھ

تا لی عد روا تکیا۔ت )تا

ضرور ات دبین یش ےسیج یکامنک رکا فرم رت سے

ضردزیات دی نکا سط رح انکارکف ہے بوڈہی ان مس شیک وش یہ اوراال خلاف انا یکفرہنے نی ان کے گر ان یں شا ک کل ما نکہنا یا ےکاف رن رجانناجھ یکف ہے تا

۱ امام ئل الوزکریانووی' وم رام ارگ عم وا اس

میں ٹر مات ہیں :

۱ سح حمحىشت ء کان فیەنص

پا سم سوہ چ

0 یس ,32 کرای ١/۷‏

.ك۴ وی رضو رش ریف :جلداول ‏ جح دوم گل ۱۰۵۹ رضافاۃ نڑ“ٗ نع لا ہور پاکستاان/ انڑ یاء راب ۸۸ء

'نقا نز وی رضو ریف جمد اہ ۳۳۸ ءرضا فان مکنا ہود پاکمتا نان یا رخ ۴٢‏ بل ۲۸

پا پک کے 0910- ص‌ مہ بپد لٹ - 7 ہ‫ 1 فماوبی رو مر یف :معامدر ۱۴ نہ ۹ ۴٣۳‏ ۱ رضراما و نر مکنا ہور ما تنا نآ اڈ او رخ ۲۳ گ٠‏ ۲۹

20م یسور۵ پک ۱ ار رت 1جو عمعلوم ہے نوا وا می نس ہو پا نہ وا ںکا مرن رہ ارز ملنتطا۔(ت)

تضور لی شتوئ یع دا نکب دا رک کے پارے یی سعفقیرواالل ستوجماعت تضور یلو رسپ ال ین ا کم الئڈی اما وین وا خر نلیا تھالی علیہ یلم

کیل وس تق کی جملرمفاتکالیہم شک با ال ےتال تضوک مات

لق رما ناس اور وت : 30 0108008

مال ینف

ہت مکڑکحن رن کتاینہ ِ +ومَز انس فَيْاِعَِزمُنقی ٰ ۱ 7 کی و و پکا جج نس نی سکماگیارت )

بآ کے ولکن ول للووماکۂ لی + از ےک ۱ درس بیو میں کیلمت )بھی معاذ الکوئی کید ےجس کے امکا نکذ بکوجواز . لف تفرغ یی گا, توعد ےا تضورنید ما لی اتا لی عل یل کو شارت عظیر ْ کیشکہیں اہ ال پیل سےمشر فک ایا تہاری شیع ت مطبروکوشرف افضلیت با تم .فا ادیان ہو تمہارے دی ن تین کا نا کوٹ نآ ۓگاتم سب سے بلنددبرت رہ تم سے پالاکوئی ہوانہہوگا؛اس میں اف وط ر مال ما مخال ہے۔ تنا مم وت می کن ککرنے والایھی)کافر سے ا علا شاب الد انل الین یتو ریش فی نیا تقد مم فراتے ہیں: دا ایل منلہدراسلا مان رون تر از لن س تک ہآ راکنف د بیالن عاجت اف

تا رآ ن اریم اب:٭

ئ فراوکی رضو بشریف؛ جزر ۱۵“ ۲۲۸ درضاماؤ نر شی( ہور اکسا انی ؛اخن۰ خصس۹۹٦۱۔۶ے١‏

سس رزضں مو 00× اماایل مقرار از" لن اذت کیاکی یادگرد یمک مبادا زنر جالے رادرحتے انداز دو میار اشک ہنا ہرمارندکردن ڑ برک اط ر را سے در نرہ خد ا ہے تعالی برمہ بچیزقادرہت کے قددت اور |“ یت اماپقول خراے تعال از چیز ےن رد ہدکہ میں خواہد ادن یا تواد لن بج چنال خبا دک ند ا ےتعالی از ال خرد بد وخرا ےتعالیخرداوکہ بعداز دے نی دنگ اش یگ این سنہ رک ےقوا نمو اس دروتٹ اور متخ دک ہاگ برمالت اومعزن لاد ےد براد ہر راز ال خمردادےصاوقی دارضے و مان یت اک ازط لات رمالت ااشیکی مابدای درست شدہاست ای نی مت وک نے پان پیش ان استت درز مالن اد تاقیامت بعداز د ےت نی خاشدد ہرکہ در یل رلک ست درآل نیٹ کک ست داش کرگیدکہ بعد از دے نی دیگر پودیاہست باخوامد بد وش سک یگ یدکہ امکالنٰ دا دکہ باشد کافرست ائطمت شر درقی یمان مفا تم نیا لن کی اط تعالی م مل ا جار تھالی بی مستلمسلبافوں مل رون تر ےکہاے بیان ووضاح تک عاج تکیا ےکن قرآن سے ھا لے جیا نکردہ ہی نکی زند فی کے ےی چان لکوشہ بتلاکرنےکاخطرو ضر ہے بسااوقا تمحیابا تک ہیائے نل فر یب دتے ای ںکمالل تالی ہرز پرقادزےکوگی ا لک قدرتکاا لا زی سک رسلا لجان جب اود تعال کسی ج کے : متفلقتردے د ےک اےے ہوگی اہ ہوگی جو ا کا خلاف نی ہوسکناکیونک ہاو تا لی اسی ۱ : ےجرد تا ہے اوراللدتائی نفد تا ےکہال کے بد دوس رای نہہوگا ءال بات کامحمرودی وکنا ے جوسرے ے نیو تکامکر ہوا جوش آ پک رساا تک مرف ہوگا وپ صلی اللہ تعالی علیہ وی مکی بیا نکردہ بج رکا جان ےگا جن دال ےک پکی رسال ت کا ۱ شھوت بط قواتھہمارے ‏ درست ہے اکا رر گیا درست ثابت ‏ ےکقمام انام ہم السلام کے بدآپ کے مانہ بی اور قیاص تک کآپ کے بھدکوکی نی نہ ہدگا جوآپ

ار ای (فارسی باب دوم در بیان ایمالن اف رشان وکا بہا وك ران ... ا نعل ہار مر ش رح ایبان برسول ارب٥‏ لی ۱دق توالی علی دمکم بس۹ ٭ ۱ ۓ ۱١‏

ْ 07 0 شس کےا پل ا اشعلی عم کے بعد دوسا تھایاے یا وگا اور جونٹس کےکسی سی کےآ ن ےکا امکان ہے دہ کافر ہے می خاتم الا نیا ث کی اللہ تا لی علی یم ماما ںیئردے۔(ت) "

ور پل س٥ل‏ اتال علیہ ول یح بدا رک لم کےارشماد ما رك اگز زی نے والا6ڑے.

امام ائن جج رگی انی تر دا مال ات م۱۴0 ا عیید اأنممان“ 02-0

لیت ٹم رووا کل تلم دا الله تعا ی عليهوسلم لانبی بعدںی ۔آلا ۱ ۱ ۱ امام ائشعم شی ال تزالی عنہ کے ز مانے میں ایک 90 ئ۸0۳ ۱ کوٹ شا نی دکھائوں ام ہام نےف رمیا :جوا ےنال اگ ےگاکافرہو جا ےگا وا - اج ےی لعل ہم ریو ضر درد کک کر ےکم رہے بحدکوکی نیاکئیں۔ ۱ ۱ ۱ رسول یا رہون لکن والاکافر سے ۱ ۱

فا یظاصہ و و فصول او و جس ٌ ری ویر بای سے

۱ ولف للعمادق قال قال انا رسول للهاوقال پاغار۔ یہ تی یریں به کن پا مک یکفر ولوانه حین قال هذت المقألة طلب غیرہ رہ المعجزۃ قیل یکٹر الطالب و المتاخرون من المشائ ‏ قالوا ان کان غرض الطالب تعجیزدوافٹضاحەلایکفر ۔ گِ

ئ ات سا نکی نا تال ام افصل ؛لاری وا دن فراستاۂ ری ایم مر نیک رای ئ ڈاوکی ہر > مکوال لصو ل ال ماد بی ءال ہاب الماسحع و نو را یک خانہ لہ لاو ۲۷۳/٣٢‏

وم جا ےگا اکر جھراد یل ےک ہم کسی کا ام نے وال گی ہیں ۔ او گر ا سے دالے ےو جزہ ماگ ےت وک کیا یھی مطاغ کافر ہے اور مشار متاخ بن نے ف ما گر ۱ نے ما ماک رن کیرش ےقز ظا سکیا وکافر نہ ہوگا وزن شر زشوت جس کک ا ے بی زوبا ٹک ا ْ ۱ مگانبوت سے ججزد انا بکف یں سے ۱

”اعلام بقوائع سام یش ےد نک

واج تکفیز مد الدبوۃ و یور کفر من طلب منة معَرة لانه بطليه لھا منه جوز لصدقه مع استحالكه المعلومة من الدلن بالضرورۃ --. نعم ان ارادبذلك تسفیبەوبیان کذبەفلاکفر ۔آًا .

می نو تک گنو خودی رشن ہےاورج اس زوا گے ا سکابھ یکنف رط رہوتا ےکد و ال ما گن بی اس مدگ یکا صیدر نل مانار پاے عالانکدد رین مین ے پالضرورۃ ۱ ۰ معلوم جک یلیل تا علیہ یلم کے بعددومرد یکن نہیں, پان اگ ران طلب ے سے ان بنانا ا ںکامچھوٹ ظا کر نامتصود ہو وکف یں

سمین کے ےی و تکانکر کے :می ذلك (ای المکفرات) ایشا تکذیب بتیاً وئبة تعیں کزب . اليه او حاربته اوسبه او الاستخفاف و مل ذٰلك کہا قال املمی مالوتمی فی زمن نبینا او بعد ان لو کان نبیا فیکفر فی جمیع ذٰلك والظاھرانہ لا فرق بین نمی ذُلك باللسان اوالقل بن ان مختم۶ا۔ ایس پاتوں بس جومجاذ الل ہآ دٹ یکوکاف کرد تی یں کی یک وجٹلانا یا ا کی طرف ٰ لا ااعلام ناخ الاسلامخ لالم مت“ اقیقۂا نول تہکی ہ ہے - نا لا علام رقواع الا سلام نل الا رمکتبۃ لتق ات ول ت کی ب ۲ن۵ ٣‏

فا وک رکب ہونا او رھ رج ناما یی ا سںکفریا تکیاشل ے۔ ہمارے نی صلی اف تھالی علیہ [ یلم کے زہانے میں پا تضور کے پوس ینس ات اکر ناک اع رر نے نی ہوجاجاء ان ٠‏ سو مین ا اہر کا شاو کان ما ۱ صرفدل ما وقفر

ماما رضار ال تال علیفریاۓ ہیں:

کان اشاجب گنا اف ہت کت ادجا وت اکس دج اکفر ۱ ۱ ضیث ہاو ليذ الوب الَغلین۔ ُ تر پللارگافقالأئیدائرظ ںا رک و خی اتا ضرور یا تد سے ے ۱ مد الر رز ہیں 0 انشباووالناائر ور اشش ٤ے:‏ الفظ لھا اٹ لم زعرف اںمحمدا صل للهتعال عليه وسلم آخر 7 ۱ الانبیاءفلیس ممسلم لانەمن ال روریآان۔ لتا ۱

جب نہ پان ےکزیسلی اللتھالی علیہ تماما نیا یم الو الام ۓ پیا یںومسلمان کش سک یضرہ ہا ماد بن سے ے۔

دنر ۶ آنادحدیث ہام نکافرے

شف شریف ام قاشی عو می اود ںکی شرع ”لیم الراضل للع ات

۱ وك یگفر می اد تبوۃ اعن مع نیپتا صلى الله تعالل عليه < سلئ بھرنرایچوورد یجس ری 7 احدیعلتا 8 خاتھم النبیین بدصس القران وا ری فھلا تگزیب ارزہ

تا لاغباراظارۂ الاب لیر ناف دم قھرت ی۱۰ /۲۹۹

گی رت ارڈ کٹ ۷ ۳ال ںا رسولھ صلی اللہ تعا ی عليه وسلم (کالعبسویة) وھم طائفة (٭ن الجہود) نسدوالعیلی بن اق الیھودی اد الدہوڈلی زمن مروان ا مار و تبعە کشر من الموھود و کان من ملهبہ ٹہویز حدوث النبوة بعد لبیدا صل اللہ تعائی عليه وسلم (وکاکثر الرافضة الفائلین بمشارکة علیى فی الرسالة بی صلی الله تعالی عليه وسلم وبعدہ کالبزیغیة والبیالیة منہم) وھم _ اکفر من النصاری واشل طررا مۓہم لا ہم حسب الصورۃ مسلمون ویلتبس امرھم علی العوام (فراؤلاء) کلھم (کفار مکذہونللیہی صل الله تعائی عليه وسلم لانەصل الله تعال عليهوسلم اخبرانەخاتم الدبیین واخبر ایضا انه (لانہی بعد واخبر عن الله تعا ی انه خاتم الدبیین وانه ارسل کافة للناس واجمعٹ الامة علیان هذا الکلام علی ظاھرۃ وان مفھومه الہراد منە دون تاویل ولاتخصیص فلاشك ئی کفر هؤلاء الطوائف کلھا قطعاًاجماغًا وسمڈًا) لام ختمڑا۔ ٰ ین ای ط رم دویھ )کا فر ہے ج جارے لی ال تی علیہ یلم کے مانے بی می کی نو تکااد اکر جیےمسیل ہک اب واسووینسی پا تضور کے بن کیاکی نوت مانے ال لیےکیقرآن وحزیٹ می تضور کے تالق ہو ےک نص رع نو ین اللہ سو لکوٹلا جا ے جا جلالہ د٥ی‏ اڈ تھا لی علی لم جیسے بیہودکا ایک طا سو کی جن انی بیہود یکی رف سوب ہے اس نے مردائن الما ر کے مانے میں ادہائۓ شہو کیا تھااوریبت یہودال کے اع ہو گے ءا لک رہب تھاکہہارے نکی اڈ تی علیہ سکم زوا یر ےگ ےاور یی بہت را ٴیٗ اک و اض کورسالت 7 سک اللدتعالی عر یماش یک اورتضور کے بعد ایس بھی کے ہیں اورییے راففیدوں کے دوفر تے ریش و بیاشیءالن لوگ ںکاکف فلا گیا سے بڑ کہ ے اور ال سے رائکدا کا شردکہ رصورت ٹم

نا کتاب اذا وللقاشی عائض بل لی بیان ماع کن النقالات :مل ہمشرک حانی, ٣ ٠-ے۔١/ ٣‏ کیم الر یب شر شفاءللقاشی عیائ صلی ان ماع کن النقالات :دار لک ببروت: ۵۰۹/۴ ۰۹۲ ن

زمرہ مل ران ہیں ان ہے امھ نے ہیں مل انت وی ضس کےس بک فا نہیں نی صلی اللہ تال علیہ مک یکذ یبکرنے والے۔اس لیے ضوراق یسل اتال علی لم نے دگاکہضود اق الققق یں ادخجرد یک تضور کے بعدکوگی یی اور اپے رب زدیل ےٹجردٹ ہو تضو رکا الگ اورتام جہا نکی طرف رسول اج ےاوز ات نے ایاگ اک یآیات واحاد یٹ اف ظاہر بر جو گان سےمغہو ہوا ہے غدااوررو لکی می راد بے شدان یش پجھتا وی ہے :یمیس بت پت کی یی لک 6 سب اک ےنم ا ہا مت دا عدیث دآیت پا ق٣‏ نکاف ہیں تی امام اکم دضافرماتے ہیں: ا کی 7 دا ا کلام رشیرنے ول ہلیددرواف بل دق سی لنا ہر یدوامیر.. لقاطر یر کم دودومنی“د امہ گا رکھا ود ای جة السا می ٹر ےآ زر کل بت کہ ان شینو نکاکفر پودونصارگی سے بدتر اور کن ےکافروں سے ا ن کا ز ا٠د‏ ضرر اذا شوا لال گور ' ۱ ٴ ورپ ۱اش تال لد ندرک ہرقمام امیا ءوم رشن کے زا تم ہیں ٠‏ ”و زا !کر دی شی اض شر ں لن ی الا رم ے:

٠ ۵‏ ای داراعلوم دی نداوکناب'تجز یرالنا'' کا مصنف دای مقل ٗی لو ہنی قام ٹوجوی۔ اق

کتابتز رالاس می ھا ےک از الف بعدز ان نوکی سال تائی علیہ یل مب یکوکی می بیدا ہہت

۱ ریخات رکیل یف رقائی ںآ ےگا دیون بوں ( با مقلد اکےای نقیر ےک او کر

رز الام اتم ہق یالی نے نبو تکا دوگ کیا تھا دو نول کے ای عقیر ےکی بنا رب ونم کےکلاء

۱ نے ق الم نا فو گی یگ مکف رای تاقالم نف کی کےکفہ ش ککرے و و یکاخ رے میا نے . کے یی صا ما رشن ' کا مطالعہسیج۔ ۱

ا ایر طا کم زا یمان غلام اداد یا سب ےنا ہے بیگی مرزاکوم کل نال گا ے۔ (معاذ اش )اور خودمرذ ااپے او پروی أُت نےکامدگی ہے اپ ےکا مکوکلا م ای ومنز من ارڈ تا ے۔ مرزاخلام اجھرقاد بای کے مز بیرکفرد بے کے لیے الس والعتقا ب کی اس اللزب '( تھو ےہ 7 اور اب )کا مطالعہ گج ۔

امام الاہمان پسیرنا میں من لله تعال عليه وسلم قیجب بآنہ: ۱ رسولدای الال وخاتم الانبیاءو الرسل فاذا من بآەرسول ولم یؤڈن بأنەخاتم الانبیاءلایکوںمؤمیا۔تا

0 و تودا بجگ جار رسول ہیں (نہ ےک مواذ ان بد وصال شریفتخوررسول ند ے پا تضور کے بحدراب او رکوئی ہمارارسول ہوگیا) اور ایمان لان فرش ےک یتور فمام انویاءد مین کے اقم ہیں :اکر شور کے رسول ہونے پر ایماان لا یا اود ام الانمیاء ہدنے پچ مان ہلا یاقومسکران نہ ہوگا۔ ْ ۱ ۱

امام اتحرضافر مات ہیں:

بیہاں رنرالت بایان ما زآینگرصورت رتسب اواے ا ہوا اکیاورں جوڑخ بوت ٠‏ پرایمانشدلا با قاع حضسورکی رسالت بی پرا یمان ن لا اکسرسول جا مات وتضور جو بک اپنے رب جل جلالہ کے پا سے لائۓ سب پر ایمان لاا۔ کہا تق تقرم فی کلام الامام التورپشتی ر مەاللهتعالٰ(جیا اکامامقورپتتی ےکلامی پیلگزرچاے۔ت) - ور پراورے پپی ےی نیرکوی جان انف سے ٰ

امام علامہ پپسف ادد یش انی تاب الانوا رٹ فرماتے ہیں :

من ادی العبوۃٹی زمائدا اوصدق مدعیا لھا او اعتقدنبیا ی زماله ٴ صل اللهتعا یعليەوسلم اوقبلهمنلمریکں نبیا کفر ۱ء ملاخصضا۔

۱ ۱ جو ہارےزمانے میں نبد تکامدگی ہو ادوس ےکی مدکی تحھد لِ قککرے پاتضور ۱ کے مانے می یکو مانے یا مضود سے پیل کیا غیکو نیا جانےکافرہوجاے ا ۔ملفضا۔

ات مض شر لف ا الا برہ باب ارم شور آن الفاظ الکغر انواع+داراحیاءالتراٹ الع ری ببروت: ۹ 2 الاو را قمال الا برار ءکاب الررة؛ ۳/ ٢ے ٣‏

۱ تام ات امام الا ملا مج یج جن ا تاب الاقضاد مم فاتے ہیں: ۱ ان الامة فھہت من هذا اللفظ اته افھم عدم نی بعدہ اہں اوعدم رسول بعدہ ابدا والە لیس فيه تاویل ولا تخصیص ومن اوله بتخصیص فکلامەم انواع الھذیان لا ہنع الحکم بتکفیرہلانہ مکذب لھذا الع الذی اجمعت الامة علی ‌انەغیر مؤول ولامخص وص ۔للَٔ ۱

یی تما مامت یگل ضاضا وخلیم|اصلو وی نے اف اتک القَبِژیَ سے می مھ اکردہ بات ےکن یی ال تھا لی علی لم کے بعد یکو می نہ وگاتضور کے بھی کوئی رسول نہ ہوگااوتھام امت نے می ماک اس لفط ٹیس وی تاویل ےکآ اہین کےسوا ات لق کے پھادرع یکھ یئ نا موم ہیں یجس ےک تضور کے مخ وت کسی زمانے ا زین کیاکی یق سے فا یور جوا خی حا وی شی کو راد دے ال کی بات جنوئع یا نت یا رام ٹس مین بد انے کے کے سے ہے اسے کاف کے سے ہمالع ت کی سکرد ہآ یت ت رآ نک یکذ یبکرد ہا ےجس یئ اصلا تا ول و یس زہونے پرمت م رتو مکااہمار ہو چکاہے۔ ۱

امام اتد ضافرماتے ہیں: ۱

تجرائڈد عہار تگھ یئل عباز تی شغاء و نیم تام لوا کف جد یہ قاسحیردامیري " ہم الل تھا ی کے ہز یاناتکار چڈلیل دجلی ےآ مج آ نس پیل اح رآ نے وا لے کاٹرو ںکا روفرما گے۔ ائم دی نک یکراص تھی ے۔ ۱ لی راید ںکاکفبیکقید ہک ولائگی نی ہیں

”نید الطالین شر ذف یں عقا دیون ملا ة رواٹ کے بیان می فرماپا:

نا الاقضمادی الا ختقادہالتطب ارائع الہاب الرائع بان منہج بگف رون الف رق بے ۱١‏

ا

نرترکرمےو ‏ ناک رکرزس ف0۶ کا ادغے ایضا ان علیا نی ال قوله رضی الله تعال عدہ لعدہم اللہ و - منْکته و سائر مللقه ال یوم الربن وقلع آثارھم واباد خطر اھم ولاجعل مم ٹ الارض دیارا ذا ہم پالغوا ٹی غلوھم و مردوا علی الکفرو تر کوا الاسلام وفارقوا الا یمان وجمدوا الاله زالرسل والتادیل بیع ڈراہ معمن ذغب ١ي‏ هٰزہالہقارة تا نی زا لی راف ںاہ ابی ن ےک یمولمل یا یں الشدادراس کر نت اورمام وق قیامت تک ان راففیں پرل صن تکرمس ااڈران کے درن تک جنڑ اکھا کر ینک

دےتاوکردے ز یکن ران می لکوکی مین دالا ضر : ک ےکہانہوں نے اپناخلو ور ےگ ارد یا٠‏

رم گے اسلام کچھوڑ بے ائیمائن سے جدا ہے الد ورسول وق رآن سب سو ہو گے جم ای پناہماگئ ہیں ای ے جایازہ+بر کے۔

امام ات رضاف مات ہیں : ۱

دی اشک ز ول نے بیردعا ےکر یی مستیاب فر مائی راب وغی را مکحون طوا ئن کا نان تر ہااب جوا س دارائششن ہند پر نکی زین میں فصو کی بو پچھارکیکند و بہار دو یکر تالارل نہیں ہہیںجاز ہلل پڑے د گی ؟ تما لی جا دجلراۓ مفرست کو

کرک ارم یں بات ہوتو دوک قرالنی ے الع خیب الاؤلئنیہ کر نٹ 7 ال ور قلدہ ا پر یز80( ام کوک دلو پچھلو ںکو ان کے جچئیے پیا کی گے مج موں کے سا تق ہم ایسا :یکر تے ہیں ۔ ت ) کا

جرے۔ می نکی شا نکمٹانے وا لاکا فرے شرع متماع رٹ ے: 2 فیۃ اکا مین نل علامات ال کت کے باان شس بمھ لے لی معر١‏ /۸۸

گا ارت نک ر۴ ۷ ۱ ث اعمرا ارم ارات :۱۸۲۱۹

اوکذب رسولا اونبیا او نقصه بای منقص کان صغر ا مه مرينا__. ۱ ا اع ا ا سای عليهالصلوۃوالشلام نی قبل فلایرد-آآ ا ْ ۱

یی کا رے جوسی نیک یکل ی بکرے امیر ا کی شا نکھٹاۓ ضا یریت تو ڈین ال ںککانا جو کر کے نے یاہمارے ب لی اوشدتھالی علیہ مکیتش ری فآ ددیی کے کی فو کن مانے اویل لصو سا وضو رکش رفآ وی سے پل ہو ےن سے ار اگ وارتوگا_

فلاس نہ کے پا لعقیرےکارد : عارف بالل ھا تعہدرافی نائلی شر الفرائ 00 فسادملھبہم غی عن البیان بغھادة العیان کیف وھو یؤدی ا ی تجویز نبی مع نبیناً صل الله تعای عليه وسلم اوبعدت وذٰلك یستلزم 3 ٹگذیب القرآن آذ قناتمن علن ال عاتم التضی واعر المرسللن: ول السنة انا العاقب لانبی بعدںی, واجمعت الامة علی ابقاء ھذا الکلام عللی امہ زط دی الال شھو الع کفرنا تھا للا فةلعدہم الله اتعایق گا سےٗےس اھر ےرت اکنا بے؛ اس کےزد شف باتے خی کان کے وب کا بطلان تع با نی آحھھوں د ھا ال ہے او کیوں نہ وکہائل کے تنج بی ہمارے بھی می ال توٹی علیہ ویلم کے زمانے میں یا تضمور کے بعددکی نیکاامکان مک ےگا اور کر نز جب ق رآ نکو زم ےئ کن می ف ماکاک تضو مات الکن دخ رال رشن ہیں اورحدیث یش سے می پکمار

ك ان نے راغ مباج مع سو تقد کت عمد ہلا ا ورٹل ۲۸ س۲ تما می۸ شود ککوال یش رح الع زا ئدلایا* یع امیر ممتید کہ بعاد باا ہو ر گل ۱۵ ۱۱۳١‏

جیا ہو ںک رم رے بحدکولی 0202۵27 ا پڑہے چوائی ۱ ا ےکی ںہ وو ش ےی جم وی اسلاام نے فلا ہکاخ کہا اتی ان پراعنتلڑنے۔

نقل هٰذین خاتم البحققین معین ال حق الہبین السیف الیسلول

مولاتاقفضل الرسول قدس سر ٢ق‏ الیعتقد‌الہنتقں۔

نے ڈرو دووں عبارتیں نات تین بین کے موا ینگ یوار افضل رسوتی قدیل رون اب قکتاب امتقد ال مفقد مم رق لکی ہیں.۔(ت) ١‏ دلیکئی سے اض جات والکافرے

موا ہب ریف آخرنوع خااٹ قصدسا ہی می امب تن صاصی' گا

تیلقا سم والافد اع“ ےق فر ایا +

من ذھب ال ان لحبوۃ مکتسیة لاتتقطع الا الول افضلِ مس ۱ البی فھو زندیق ا یآخرہ۔

انت ا کی بے ال جتانے و زن لی بد بنکیددہریرے۔

علامز رقاکیٰنے ا کی یل م ناد

لتکذیب القران و خاتم النبییں ٹل ای وجہ سےکافم ہواکی تق رآن تیعم سخ مہو تک جنر یپ کرجا ال سشتنو جماع ت کا عقیرہ ۱

”لام امام فی پچ تخس روح الییان شس ہے:

زتا لواہب لد می المقص داماد الو !لاٹ ؛ کنب الا حلائی ببروت: ۱۸۳/۳ 2 شرع الز رقالی لی الم وا ہب لدد یی امققیدالمادسں ؛الن ‏ الماٹ ؛دار ال رف ببردت ٦٦‏ /۸۸

ضبف من الروافض قالو ان الارض: لاتفلو سی البی والنبوۃ : ۱ صارت میراٹا لعل واولادہ وقال اھل السنة وا جماعة لائبی بعں ٹییتا ٭-- صل الله تعا ی عليەوسلمُ قال‌اللەولکن رسول اللەوخاتم النبیین وقال تک البی صل الله تعالی عليه یہ وسلم لانبی بعدی ومن قال بعد‌نبینا نی یکفر لانەانکر النص وکذْلك لوشك فیە!ا ببعض اختصار۔ ۱

راففیوں ایک طا ت شک تا ےر بین سے فا یی ہوکی او زنوٹ مواعی اوران : ال کے لے راف وی بے او رای مت رات ون ذہمارے بی کی الد تالی علیہ زلم کے بعدرکوکی یی کال تھی فر اتا ہے پان خدا کے رسول ہیں اورسب اماء ٹیش پیل ء او رتضسور ا قزر مکی ارتا یع یف ر اے نین : مر ے بعدکوئی یئن ۱ تہ وتضور کے بعد یکونی مان ےکافر ےکرقر شیپ نو رہ یی ے ْ وت یس بتک ہود و یکافرے۔ ۱ رافبو ں کے با لعقیر ارد - تج بیدا شور لی مس ے: قال‌الز وافض انالعالم لایکون‌خالیاعن‌البی قط وھذا کفر لان اللەتعآل‌قالو خاکر النبیین ومنادی النبوڈئیز ماندافانهیصی ر کافرا ومن طلب مده البعجزات فأنه یصیر کافرا لانه شك فی الىصس وجب الاعتقاد ہانہ ما کان لاحں شرکة قٌّ النبوۃ لیحیں صل الله تعال عليه وسلحر بخلاف ماقالت الروافض ان علیا کان ڈریکا لبحمد صل اللہ تعالل عليه وسلم ث النبوۃوهذا منہم کفر لا لی کت یں دنا سے فا نہہوگی ور یکر ےک ہاش رکز ئل فری: کا

تا 9009 00010 ا ائ ےھ /۸۸ 2 تبیہ ی بیان التوحید :الاب السا لی الاھرفت دا مان داداأللو رز ب الا ناف وہ بگ ۶ ۳

رو دو فیک س 0001020 ترے سک وخاتھ الین اب جو اوک نو تکرےکافرےاورجواں سے ججزہما گے وب یکافر کہ اسے ارنشا دای بی شیک پیداہداج تر جرب ٹاو رکا ا وش ہ یکو

3 وستیئص٥لی‏ ال رتوالی علیہ لمکا ش یک تھ رق روش سےک موی یمک وتضوز اقریں ۶ مکی اتکی علی لم کےساتحوشریک نبوت مات ہیں اور برا نکاکفرہے۔ ْ

تمضور: ارس شال لی ا ٤ہ‏ ارک وم مآ اق ادرضضرت ابوگر ۱

حصد لی شی اللہ تعالی عاأضل الاحاب ہیں

الوم کیک التاما رو ب بات یھ شر سل میں فر ماتے کیب : ٰ

حہں رسول الله صل الله تعآلی عليه وسلم حَاَدَ کم النَِّژِیَ وابوبکر ۱ رضی الله تعا ی عده افضل الاصح اب والاولیاء وهاتان‌القضیتان ما یطلب _- ہالبرھان فی علم الکلام الیقین المتعلق بہبا یقین ثابٹ ضروری باق الیل الابداولیس الحکم فیہبا علی امرکلی بجوز العقل تداول هذا المحکم لغیر لین الشخصین وانکار هذامکابرڈو کفر ۔للأ ۱

ھرسولل ایی اتکی علیر اتمم لق ہیں اورالویگرشی اللدتحالی عنہ ا ما رادرم ولا سے ال ہیں اذدان دفوں پاتوں پرایل یلم ماش کور ۱ ےاودان برشین وہ جھا ہواضروریی مین ہے جواہدال دنک بای رگا اور یہ تج لی اورال الا ولا :ہدک امم 7 کے نے اتکی نکیا ےک یتقل ان دونوں ذات ۱ اگ کے× سی اور کے لے سک ون مانے ادا کا رٹ جرگ مم ے۔

امام اتد رضاف مات ہیں :

اقول: فيه لف ونشر بالاقلب اصع بقی اک ری ال توالی عنہ کے ال الاولیاء ہو نے ے اڈکارق رآآن وسنت داہمار امت کے سا جع مکابرہ ہے اورسیر عال مکی ال علی لم کے اما رہدنے سے انار اذ لوب الْعالَؤن۔

ا شر ملصد اتی :پٹ اتقمد یا تآ خرکتاب ہعن راک یلیگ ۲٢٢‏

شیطا نکا ول اورغلِذِونا بک ون؟ ۱ ۱ ۱ ام لی" موا ہب لی مق رسمائع نل اول و اعد ایند بن اب او لم لان میں ف مات ہیں: العلم اللدفی نوعان لدنی ‏ رمانی و لدفی شیطانی و البحك هو الوی و لاوگی بعد رسول الله صل الله تعا ی عليه وسلم واتم]آ قصة مولٰی مع ا خضر علیہہا الصلوۃ والسلام فالتعلق بھا ٹی تجویز الاستغناء عن الو بالعلم الد الححاد و کفر بیخرج عن الاسلام موجب لاراقة الدم والفرق ان مولی عليه الصلوۃ والسلام لم یکن مپننوٹا ال المفضر, ولم یکن الخضر مامورا بمتابعته و میں صل الله تعالی عليه وسلم مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالته عامة للجن والانس فی کل زمان فس ادی انەمع محمد صل الله تعآلی عليه وسلم کامخضر مع مولی علیہباً الصلٰوۃ والسلام اوجوز ذٰلك لاخں مك الامة فلیجند اسلامه (لکفرہ جلذہ الدعوی) ولیشغھں شھادة اق (لیعود ا لی الاسلام) فأانه مقارق لدین الاسلام .... بالکلیة فضلا غن ان یکون من خاصة اولیاء اللہ تعألی وانما هو من اولیاء الشیظن وخلفائه ونوابه (ٹی الضلال و الاضلال) والعلم اللدن الر مان هوٹمرة العبودیة والمتابعة لھٰذا النبی الکریم عليه از الطلٰوة واتم : التسلیم و بَه بحصل الفھم ف الکتاب والسنةہأمر بختص بەصاحبه کہا قال علی (امیر المومدین) وقد سئل (کہا ثی الصحیح وسان النسأق)ھل خصکم رسول الله صل الله تعا لی عليەوسلم بشی دون الناس( کہا تزعم الشیعة) فقال لا الا فھبا یؤتيه الله عبدا ٹی کتابەا ام ختصرا مزیں تا لواہب لی